15 جون 2009 - 19:30

غدیر آل محمد علیھم السلام کےلئے جشن منا نے کا دن ہے اور اہل بیت علیہم السلام نے خاص طور پر اس دن جشن و منا نے پر زور دیا ہے.

دوسرے خلیفہ کے دربار میں ایک یہودی شخص نے کہاتھا

اگر (غدیر میں نازل ہو نے والی) آیت اَلْیَوْ مَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ ہماری امت میں نا زل ہو تی تو ہم اس دن عید منا تے (1)

بنی اسرائیل کے انبیاء جس دن اپنا جانشین معین فر ما تے تھے اس دن کو عید کا دن قرار دیتے تھے ۔

غدیر کے دن بھی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے علی علیہ السلام  کو اپنا جا نشین معین فر ما یا

عید غدیر منا نے کا مقصد اس تا ریخی دن کی یاد کوشیعوں کے دل میں باقی رکھنا اور اس کے مطالب کو زندۂ جا وید رکھنا ہے

غدیر تشیع کے صفحۂ تا ریخ پر ولایت کی دائمی نشانی ہے ۔

روز غدیر خم امت کی تمام عیدوں سے افضل دن ہے ۔(3)

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علی علیہ السلام  کو روز غدیر عید منانے  کی وصیت فر ما ئی

انبیاء علیہم السلام اپنے جا نشینوں کو روز غدیر عید منا نے کی وصیت  کر تے تھے ۔[4]

خدا وند عالم نے کو ئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر اس پیغمبر نے اس دن عید منا ئی اور اس کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھا [7]

غدیر :عید اللہ اکبر یعنی خدا وند کی سب سے بڑی عید ہے۔[8]

غدیر :روزعید الفطر و قربان و جمعہ و عرفہ سے افضل ہے [9]

غدیر کو خداوند نے شیعوں اور محبوں کےلئے عید قرار دیا ہے ۔[11]

شاید تم یہ گمان کرو کہ خدانے غدیر سے زیادہ کسی دن کو محترم قرار دیا ہے !نہیں خدا کی قسم نہیں ،خداکی قسم نہیں ،خدا کی قسم نہیں [12]

روزقیامت چار دنوں کو دلہن کی طرح خدا کی بار گاہ میں پیش کیا جا ئیگا عید فطر ،عید قربان، روز جمعہ اور عید غدیر ۔

جو شخص روزغدیر عید منائے خدااس کے مال میں برکت کرتا ہے۔ [15]

روزغدیر امام رضا علیہ السلام  اپنے بعض خاص اصحاب کو افطار کےلئے دعوت دیتے، ان کے گھروں میں عیدی اور تحفے تحائف بھیجتے تھے ۔[16]

عید غدیر کو آسمانوں میں  عھد معهود  کا دن کھا جاتا ہے ۔[18]

غدیر آسمان والوں پر ولایت پیش کر نے کا دن ہے

خدا نے آسمان والوں پر غدیر کے دن ولایت پیش کی توساتویں آسمان والوں نے کے قبول کر نے میں دوسروں سے سبقت کی ۔

اسی لیے خدا نے سا تویں آسمان کو اپنے عرش سے مزین فر مایا ۔

پھر چو تھے آسمان والوں نے غدیر کو قبول کر نے میں دوسروں سے سبقت لی توخدا  نے اس کو بیت المعمور سے مزین فرمایا۔  

پھر پہلے آسمان والوں نے اس کو قبول کر نے میں دوسروں سے سبقت لی تو خدا  نے اس کو ستا روں سے مزین فرمایا ۔[19]

غدیر کے دن خدا وند جبرئیل امین کو بیت المعمور کے سامنے اپنی کرامت کی تختی نصب کر نے کا حکم دیا  ۔

اس دن تمام آسمانوں کے فرشتوں نے وھاں جمع ہو کر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مدح و ثنا کرتے ہیں اور امیر المو منین اور ائمہ علیھم السلام اور ان کے شیعوںاوردوستداروں کے لئے استغفار کر تے ہیں ۔[20]

روز غدیر زمین والوں سے زیادہ آسمان والوں میں مشہور ہے۔

خدا نے جنت میں ایک قصر(محل)خلق فرمایا ہے

جو سونے چاندی کی اینٹوں سے بنا ہے ،

جس میں ایک لاکھ کمرے سرخ اورایک لاکھ خیمے سبز رنگ کے ہیں اسکی خاک مشک وعنبر سے ہے

اس محل میں چار نہریں جاری ہیں :ایک نہر شراب کی ہے دوسری پانی کی ہے تیسری دودھ کی ہے اورچوتھی شہدکی ہے

 ان نھروں کے کنارے مختلف قسم کے پھلوں کے درخت ہیں

ان درختوں پروہ پرندے ہیں جن کے بدن لؤلؤ کے ہیں اور ان کے پرَ  یا قوت کے ہیں اور مختلف آوازوں میں گاتے ہیں۔

جب غدیر کا دن آتا ہے تو آسمان والے اس قصر میں آتے ہیں

 تسبیح و تحلیل و تقدیس کرتے ہیں وہ پرندے بھی اُڑتے ہیں اپنے کو پانی میں ڈبو تے ہیں اس کے بعد مشک و عنبر میں لوٹتے ہیں، جب ملا ئکہ جمع ہو تے ہیں تو پرندے ان پر مشک و عنبر چھڑکتے ہیں

ملا ئکہ ، فاطمہ زھراء علیھا السلام کی  نچھاور  ایک دوسرے کو ھدیہ دیتے ہیں ،

زھراءؑ کی نچھاور درخت طوبیٰ کے وہ پھل ہیں جو ان کی شب زفاف خدا کے حکم  تمام آسمانوں پر پھینکے گئے اور ملائکہ نے ان کو یاد گار کے طور پر اٹھا لیاتھا ۔{بحار الانوار جلد ۴۳صفحہ ۱۰۹}

جب غدیر کے دن کا اختتام ہو تا ہے تو ندا آتی ہے :کہ

اپنے اپنے درجات و مراتب پر پلٹ جا ؤ کہ

تم محمد و علی علیھما السلام کے احترام کی وجہ سے اگلے سال آج کے دن تک ھر طرح کی لغزش اور خطرے سے امان میں رہوگے۔[22]

روزغدیر حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول ہو ئی ۔[23]

روزغدیر فرزندآدم حضرت شیث علیہ السلام  کی وصایت کا دن ہے۔[24]

روزغدیر حضرت ابراھیم علیہ السلام  کو آگ سے نجات ملنے کا دن ہے۔ [25]

روزغدیر حضرت مو سی علیہ السلام ٰ نے حضرت ھارون علیہ السلام  کو جا نشین معین فرمایا [26]

روزغدیر حضرت عیسی علیہ السلام ٰ نے شمعون کو اپنا جانشین معین فر مایا ۔[29]

جس طرح غدیر کے دن ”ولایت “ تمام انسانوں کے لئے پیش کی

اسی طرح عالم خلقت میں تمام م